عبدالقادر جيلاني
د ويکيپېډيا لخوا
| سیدناغوثِ اعظم کا مزارِ اقدس | |||||||||||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| center|243px | |||||||||||||||||||
| نام | شیخ سیدناعبدالقادرجیلانی | ||||||||||||||||||
| لقب | غوثِ اعظم | ||||||||||||||||||
| تاریخ ِ پیدائش | 470ہجری | ||||||||||||||||||
| تاریخ ِ وصال | 561ہجری | ||||||||||||||||||
| وجہءشہرت | بانی سلسلہ ءقادریہ | ||||||||||||||||||
| مزارِ اقدس | بغدادعراق | ||||||||||||||||||
شیخ عبدالقادرجیلانی(470تا561ہجری)(جنہیں حضور سیدنا عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت شیخ سیدناعبدالقادرجیلانی الگیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناموںسے بھی جاناجاتاہے)(1077-1166)جوکہ سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔آپ کی پیدائش رمضانوںکے درمیان 1077عیسوی میں فارس کے صوبہ گیلان(ایران) میںہوئی۔جس کو کیلان بھی کہا جاتاہے اوراسی لئے آپ کا ایک اورنام شیخ عبدالقادر کیلانی بھی ماخوذہے۔ شیخ عبدالقادرجیلانی کاتعلق جنید بغدادی کے روحانی سلسلے سے ملتاہے۔شیخ عبدالقادرجیلانی کی خدمات و افکارکی وجہ سے شیخ عبدالقادرجیلانی کو مسلم دنیامیں غوثِ اعظم دستگیر کاخطاب دیاگیاہے۔
نيوليک |
[سمول] اکابرینکينډۍ:زیر اسلام کی عبدالقادر جیلانی کے لئے پیشن گوئیاں
1۔شیخ عبدالقادرجیلانی کی ولادت سے چھ سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبداللہ بن علی بن موسیٰ نے فرمایاکہ میں گواہی دیتاہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے کہ جس کا فرمان ہوگا کہ
قدمی ھذا علی رقبۃ کل ولی اللہ
کہ میرا قدم تمام اولیاءاللہ کی گردن پر ہے۔ [1]
2۔حضرت شیخ عقیل سنجی کينډۍ:رض مذ سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کے قطب کون ہیں؟ فرمایا، اس زمانے کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیاءاللہ کے اُسے کوئی نہیں جانتا۔ پھر عراق کی طرف اشارہ کرکے فرمایاکہ اس طرف نوجوان عجمی ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کہے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گااور وہ فرمائیگا کہ
کہ میرا قدم تمام اولیاءاللہ کی گردن پر ہے۔ [1]
سالک السالکین میں ہے کہ جب عبدالقادر جیلانی کو مرتبہء غوثیت و مقام محبوبیت سے نوازا گیا توایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہو گئی اوراسی وقت زبانکينډۍ:زیر فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے
کہ میرا قدم تمام اولیاءاللہ کی گردن پر ہے۔
معاکينډۍ:دوزبرمنادیءغیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولیاءاللہ اطاعتکينډۍ:زیر غوثکينډۍ:زیر پاک کریں۔ یہ سنتے ہی جملہ اولیاء اللہ جو زندہ تھے یا پردہ کرچکے تھے سب نے گردنیں جھکادیں۔ (تلخیض بہجتہ الاسرار) [1]
[سمول] حالاتِ زندگی
[سمول] ایامکينډۍ:زیر طفولیت
تمام علماءواولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ سیدناعبدالقادرجیلانی مادرزاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہکينډۍ:زیر رمضان المبارک میں طلوعکينډۍ:زیر فجر سے غروبکينډۍ:زیر آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے اور یہ بات گیلان میں بہت مشہور تھی۔
یعنی سادات کے گھر انے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا۔[2]
[سمول] کھیل کود سے نفرت
بچپن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن ہی سے لہو ولہب سے دور رہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ
ترجمہ: یعنی جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھااے برکت والے، میری طرف آجا۔ [3]
[سمول] ولایت کا علم
ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبدالقادرجیلانی سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں جب میں مکتب میں پڑھنے کے لئے جاتا تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلکينډۍ:زیر مکتب بھی سُنا کرتے تھے کہ
ترجمہ: اللہ کے ولی کے لئے جگہ کشادہ کردو۔[4]
[سمول] پرورش وتحصیلکينډۍ:زیر علم
آپ کے والد کے انتقال کے بعد ،آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے نانانے کی۔ شیخ عبدالقادرجیلانی کاشجرہ ءنسب والدہ کی طرف سے حضرت امام حسن کينډۍ:ع مذ اوروالد کی طرف سے حضرت امام حسین کينډۍ:ع مذ سے ملتاہے اوریوںآپ کاشجرہ ءنسب حضرت محمدکينډۍ:درود سے جاملتاہے۔اٹھارہ ( 18)سال کی عمر میں شیخ عبدالقادرجیلانی تحصیل ِ علم کے لئے بغداد(1095)تشریف لے گئے۔جہاں آپ نے فقہ کا علم ابوسیدعلی مخرمی ،حدیث کا علم ابوبکر بن مظفراورتفسیرکے لئے ابومحمدجعفرجیسے اساتذہ میسرآئے۔
[سمول] ریاضت و مجاہدات
تحصیل ِ علم کے بعد شیخ عبدالقادرجیلانی بغدادشہر کوچھوڑااورعراق صحراؤںاورجنگلوںمیں 25سال تک سخت عبادت وریاضت کی[5]۔1127میں آپ نے اللہ کے حکم پر دوبارہ بغدادمیں سکونت اختیارکی اوردرس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداداورپھردوردورتک پھیل گئی۔ 40سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوںمیں بھرپورحصہ لیانتیجتاًہزاروںلوگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔اس سلسلہ تبلیغ کو مزید وسیع کرنے کے لئے دوردرازوفودکوبھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ خودشیخ عبدالقادرجیلانی نے تبلیغِ اسلام کے لئے دوردرازکاسفرکیااوربرِ صغیرتک تشریف لائے اورملتان(پاکستان)میں قیام پذیرہوئے ۔
[سمول] حلیہ
جسم نحیف قد متوسط، رنگ گندمی، آواز بلند، سینہ کشادہ، ڈاڑھی لمبی چوڑی، چہرہ خوبصورت، سر بڑا، بھنوئیں ملی ہوئی۔ [6]
[سمول] فرموداتکينډۍ:زیر غوثکينډۍ:زیر اعظم
- اے انسان، اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسالے تو ربکينډۍ:زیر تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اُس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت وصحبت مئیسر نہ آجائے۔ [7]
- اہلکينډۍ:زیر دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبکينډۍ:زیر دل ہو جائے۔
- میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اُس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے۔
[سمول] القاباتِ غوثِ اعظم
- غوثِ اعظم
- پیران ِ پیردستگیر
- محی الدین
- شیخ الشیوخ
- سلطان الاولیاء
- سردارِ اولیاء
- قطب ِ ربانی
- محبوبِ سبحانی
- قندیل ِ لامکانی
- میراں محی الدین
- امام الاولیاء
[سمول] علمی خدمات
شیخ عبدالقادرجیلانی نے طالبین ِ حق کے لئے گرانقدرکتابیں تحریرکیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:
- غنیة الطالبین
- الفتح الربانی والفیض ِ رحمانی
- ملفوظات
- فتح الغیوب
- جلاءالخاطر
- وردالشیخ عبدالقادرالجیلانی
- بہجة الاسرار
- الحدیقة المصطفویہ
- الرسالة الغوثیہ
- آدابِ سلوک و التوصل الی ٰ منازل ِ سلوک
[سمول] وصال
شیخ عبدالقادرجیلانی کاانتقال1166کوہفتہ کی شب (8ربیع الاوّل561ہجری )کونواسی(89)سال کی عمر میں ہوااورآپ کی تدفین ،آپ کے مدرسے کے احاطے میں ہوئی[8][9]۔
[سمول] حوالہ جات
- ↑ 1.0 1.1 1.2 اکابرینکينډۍ:زیر اسلام کی عبدالقادر جیلانی کے لئے پیشن گوئیاں
- ↑ قلائد والجواہر، p.03
- ↑ بہجتہ الاسرار، p.03
- ↑ قلائد والجواہر، p.09
- ↑ ابدالِ حق، , اکبر, p.11
- ↑ حضورغوث اعظم کا حلیہ مبارک
- ↑ بہجتہ الاسرار، p.07
- ↑ ماجدعرسان ِ کیلانی ،نشاطِ طریقة القادریہ
- ↑ سیدناغوثِ اعظم کا مزارِ اقدس (PDF)
زمرہ:شخصیات زمرہ:صوفیاء زمرہ:تاریخ اسلام زمرہ:مسلم شخصیات زمرہ:شخصیات زمرہ:تاریخ اسلام زمرہ:سلاسل تصوف